حضرت یوسف علیہ السلام نے کامیابی کے عروج پر پہنچ کر یہ دعا مانگی، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی ایمان پر موت ہے۔
رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّني مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
Rabbi qad ataytani minal-mulki...
اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت کا ایک حصہ عطا فرمایا اور مجھے باتوں (خوابوں) کا انجام نکالنا سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ میرا خاتمہ اسلام پر فرما اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔
Quran — The Holy Quran — Quran 12:101
صحت: Quranic verse
مفہوم اور تشریح
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر اور دنیا و آخرت میں اس کی سرپرستی کی طلب۔
کب پڑھیں
دعا کے اوقات میں اور جب بھی دنیاوی نعمتیں حاصل ہوں۔
کیسے پڑھیں
پوری توجہ اور آخرت کی فکر کے ساتھ پڑھیں۔
اہم نوٹس
یہ سورہ یوسف کی آیت 101 ہے، جو زندگی کے مقصد کو واضح کرتی ہے۔
فوائد
خاتمہ بالخیر کی توفیق ملتی ہے اور انسان کا دل اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔
مواد کی قسم: Quran
ٹیگز:
یوسف کی دعا
خاتمہ بالخیر
قرآنی دعا
شکر