جب کسی مسلمان کے انتقال کی خبر ملے تو اسلام سکھاتا ہے کہ فوراً 'إنا لله وإنا إليه راجعون' کہا جائے اور مرحوم کی مغفرت کی دعا کی جائے۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ
Inna lillahi wa inna ilayhi raji'un. Allahummaghfir lahu warhamh.
بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم کر۔
Quran/Hadith — The Holy Quran — Surah Al-Baqarah 2:156
صحت: Quranic verse
مفہوم اور تشریح
یہ اقرار کہ تمام انسان اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے، نیز مرحوم کے لیے مغفرت کا سوال۔
کب پڑھیں
انتقال کی خبر سنتے ہی، جنازے پر اور تعزیت کرتے وقت۔
کیسے پڑھیں
اطمینان سے پڑھیں۔ اگر میت عورت ہو تو 'لہا وارحمھا' پڑھیں۔
اہم نوٹس
یہ سورۃ البقرۃ (آیت 156) کی ہدایت ہے۔ تعزیت کے وقت یہ کہنا مسنون ہے: 'إن لله ما أخذ وله ما أعطى...'۔
فوائد
صدمے کے وقت تسلی ملتی ہے، میت کو مغفرت کا تحفہ پہنچتا ہے اور صبر پر اجر ملتا ہے۔
مزید دعائیں
مواد کی قسم: Quran/Hadith
ٹیگز:
انتقال پر پڑھنے کی دعا
وفات کی دعا
تعزیت کی مسنون دعا
إنا لله وإنا إليه راجعون
اکثر پوچھے گئے سوالات
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
مسنون طریقہ یہ ہے کہ کہا جائے: 'إنَّ للَّهِ ما أخذَ ولهُ ما أعطَى وكُلُّ شيءٍ عندَهُ بأجَلٍ مسمًّى فلتَصبِر ولتَحتَسِب' (صحیح بخاری 1284)۔